چار قل اردو ترجمہ کے ساتھ
سورۃ الکافرون، سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس
- 4 سورتیں
- 21 آیات
چار قل قرآن مجید کی وہ چار چھوٹی سورتیں ہیں جو لفظ "قل" (کہہ دیجیے) سے شروع ہوتی ہیں: سورۃ الکافرون (109)، سورۃ الاخلاص (112)، سورۃ الفلق (113) اور سورۃ الناس (114)۔ ان میں کل 21 آیات ہیں۔
اس صفحے پر آپ چاروں قل عربی متن اور مولانا محمد جوناگڑھی کے اردو ترجمے کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں اور ہر سورت کی تلاوت سن سکتے ہیں۔
سورہ کافرون سورة الكافرون
کافرین · 6 آیات · پوری سورت پڑھیں
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
-
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْكَـٰفِرُونَ١
آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو!1
حواشی
[1] الْكَافِرُونَ میں الف لام جنس کے لئے ہے۔ لیکن یہاں بطور خاص صرف ان کافروں سے خطاب ہے جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ ان کا خاتمہ کفر وشرک پر ہوگا۔ کیوں کہ اس سورت کے نزول کے بعد کئی مشرک مسلمان ہوئے اور انہوں نے اللہ کی عبادت کی۔ ( فتح القدیر ) ۔ -
لَآ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ٢
نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو.
-
وَلَآ أَنتُمْ عَـٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ٣
نہ تم عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں.
-
وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ٤
اور نہ میں عبادت کروں گا جس کی تم عبادت کرتے ہو.
-
وَلَآ أَنتُمْ عَـٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ٥
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں.1
حواشی
[1] بعض نے پہلی آیت کو حال کے اوردوسری کو استقبال کے مفہوم میں لیا ہے، لیکن امام شوکانی نے کہا ہے کہ ان تکلفات کی ضرورت نہیں ہے۔ تاکید کے لئے تکرار، عربی زبان کا عام اسلوب ہے، جسے قرآن کریم میں کئی جگہ اختیار کیا گیا ہے۔ جیسے سورۂ رحمٰن، سورۂ مرسلات میں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی تاکید کے لئے یہ جملہ دہرایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ کبھی ممکن نہیں کہ میں توحید کا راستہ چھوڑ کر شرک کا راستہ اختیار کر لوں، جیسا کہ تم چاہتے ہو۔ اور اگر اللہ نے تمہاری قسمت میں ہدایت نہیں لکھی ہے، تو تم بھی اس توحید اور عبادت الٰہی سے محروم ہی رہو گے۔ یہ بات اس وقت فرمائی گئی، جب کفار نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال ہم آپ (صلى الله عليه وسلم) کے معبود کی اور ایک سال آپ (صلى الله عليه وسلم) ہمارے معبودوں کی عبادت کریں۔ -
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِىَ دِينِ٦
تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے.1
حواشی
[1] یعنی اگر تم اپنے دین پر راضی ہو اور اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہو، تو میں اپنے دین پر راضی ہوں، میں اسے کیوں چھوڑ وں؟ «لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ» (القصص:55) ۔
سورہ اخلاص سورة الإخلاص
اخلاص · 4 آیات · پوری سورت پڑھیں
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
-
قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ١
آپ کہہ دیجئے کہ وه اللہ تعالیٰ ایک (ہی) ہے.
-
ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ٢
اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے.1
حواشی
[1] یعنی سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ -
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ٣
نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وه کسی سے پیدا ہوا.1
حواشی
[1] یعنی نہ اس سے کوئی چیز نکلی ہے نہ وہ کسی چیز سے نکلا ہے۔ -
وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ٤
اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے.1
حواشی
[1] اس کی ذات میں، نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں۔ «لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ» (الشورى:11) حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”انسان مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لئے اولاد ثابت کرتا ہے، حالانکہ میں ایک ہوں بےنیاز ہوں، میں نےکسی کو جنا ہے نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے“۔ ( صحيح البخاري تفسير سورة قل هو الله أحد) اس سورت میں ان کا بھی رد ہوگیا جو متعدد خداوں کے قائل ہیں اور جو اللہ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں اور جو اس کو دوسروں کا شریک گردانتے ہیں اور ان کا بھی جو سرے سے وجود باری تعالیٰ ہی کے قائل نہیں۔
سورہ فلق سورة الفلق
صبح · 5 آیات · پوری سورت پڑھیں
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
-
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ١
آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں.1
حواشی
[1] فَلَقٌ کے راجح معنی صبح کے ہیں۔ صبح کی تخصیص اس لئے کی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رات کا اندھیرا ختم کرکے دن کی روشنی لا سکتا ہے، وہ اللہ اسی طرح خوف اور دہشت کو دور کرکے پناہ مانگنے والے کو امن بھی دے سکتا ہے۔ یا انسان جس طرح رات کو اس بات کا منتظر ہوتا ہے کہ صبح روشنی ہوجائے گی، اسی طرح خوف زدہ آدمی پناہ کے ذریعے سے صبح کامیابی کے طلوع کا امیدوار ہوتا ہے۔ ( فتح القدیر )۔ -
مِن شَرِّ مَا خَلَقَ٢
ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے.1
حواشی
[1] یہ عام ہے، اس میں شیطان اور اس کی ذریت، جہنم اور ہر اس چیز سےپناہ ہے جس سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ -
وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ٣
اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے.1
حواشی
[1] رات کے اندھیرے میں ہی خطرناک درندے اپنی کچھاروں سے اور موذی جانور اپنے بلوں سے اور اسی طرح جرائم پیشہ افراد اپنے مذموم ارادوںکو عملی جامہ پہنانے کے لئے نکلتے ہیں۔ ان الفاظ کے ذریعے سے ان تمام سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ غَاسِقٍ، رات، وَقَبَ داخل ہو جائے، چھا جائے۔ -
وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ٤
اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی).1
حواشی
[1] نَفَّاثَاتٌ، مونث کا صیغہ ہے، جو النُّفُوسُ (موصوف محذوف) کی صفت ہے مِنْ شَرِّ النُّفُوسِ النَّفَّاثَاتِ یعنی گرہوں میں پھونکنے والے نفسوں کی برائی سے پناہ۔ اس سے مراد جادو کا کالا عمل کرنے والے مرد اور عورت دونوں ہیں۔ یعنی اس میں جادوگروں کی شرارت سے پناہ مانگی گئی ہے۔ جادوگر، پڑھ پڑھ کر پھونک مارتے اور گرہ لگاتے جاتے ہیں۔ عام طور پر جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کرکے اس پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔ -
وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ٥
اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے.1
حواشی
[1] حسد یہ ہے کہ حاسد، محسود سے زوال نعمت کی آرزو کرتا ہے، چنانچہ اس سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے۔ کیوں کہ حسد بھی ایک نہایت بری اخلاقی بیماری ہے، جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔
سورہ ناس سورة الناس
انسان · 6 آیات · پوری سورت پڑھیں
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
-
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ١
آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناه میں آتا ہوں.1
حواشی
[1] رَبٌّ ( پروردگار ) کا مطلب ہے جو ابتدا سے ہی، جب کہ انسان ابھی ماں کے پیش میں ہی ہوتا ہے، اس کی تدبیر واصلاح کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ بالغ عاقل ہو جاتا ہے۔ پھر وہ یہ تدبیر چند مخصوص افراد کے لئے نہیں، بلکہ، تمام انسانوں کے لئے کرتا ہے اور تمام انسانوں کے لئے ہی نہیں، بلکہ اپنی تمام مخلوقات کے لئے کرتا ہے، یہاں صرف انسانوں کا ذکر انسان کے اس شرف وفضل کے اظہار کے لئے ہے جو تمام مخلوقات پر اس کو حاصل ہے۔ -
مَلِكِ ٱلنَّاسِ٢
لوگوں کے مالک کی1 (اور).
حواشی
[1] جوذات، تمام انسانوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی ہے، وہی اس لائق ہے کہ کائنات کی حکمرانی اور بادشاہی بھی اس کے پاس ہو۔ -
إِلَـٰهِ ٱلنَّاسِ٣
لوگوں کے معبود کی (پناه میں).1
حواشی
[1] اور جو تمام کائنات کا پروردگار ہو، پوری کائنات پر اسی کی بادشاہی ہو، وہی ذات اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور وہی تمام لوگوں کا معبود ہو۔ چنانچہ میں اسی عظیم وبرتر ہستی کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔ -
مِن شَرِّ ٱلْوَسْوَاسِ ٱلْخَنَّاسِ٤
وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے.1
حواشی
[1] الْوَسْوَاسُ، بعض کے نزدیک اسم فاعل الْمُوَسْوِسُ کے معنی میں ہے اوربعض کےنزدیک یہ ذِي الْوَسْوَاسِ ہے۔ وسوسہ، مخفی آواز کو کہتے ہیں۔ شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقوں سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے، اسی کو وسوسہ کہا جاتا ہے۔ الْخَنَّاسِ، ( کھسک جانے والایہ ) شیطان کی صفت ہے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو یہ کھسک جاتا ہے اور اللہ کی یاد سے غفلت برتی جائے تو دل پر چھا جاتا ہے۔ -
ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ٥
جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے.
-
مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ٦
(خواه) وه جن میں سے ہو یا انسان میں سے.1
حواشی
[1] یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دو قسمیں ہیں۔ شیاطین الجن کو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے۔ علاوہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی (صلى الله عليه وسلم) نے یہ بات فرمائی تو صحابہ (رضي الله عنهم) نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، ہاں ! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے، اور وہ میرا مطیع ہو گیا ہے۔ مجھے خیر کے علاوہ کسی بات کا حکم نہیں دیتا۔ ( صحيح مسلم، كتاب صفة القيامة، باب تحريش الشيطان وبعثه سراياه لفتنة الناس) اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) اعتکاف فرما تھے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ (رضی الله عنها) آپ (صلى الله عليه وسلم) سے ملنےکے لئے آئیں۔ رات کا وقت تھا، آپ (صلى الله عليه وسلم) انہیں چھوڑنے کےلئے ان کے ساتھ گئے۔ راستے میں دو انصاری صحابی وہاں سے گزرے، تو آپ (صلى الله عليه وسلم) نے انہیں بلاکر فرمایا کہ یہ میری اہلیہ، صفیہ بنت حیی، ہیں۔ انہوں نے عرض کیا، یارسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) آپ کی بابت ہمیں کیا بدگمانی ہو سکتی تھی؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے، لیکن شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ شبہ نہ ڈال دے۔ ( صحيح بخاري، كتاب الأحكام، والشهادة، تكون عند الحاكم في ولاية القضاء) ۔ دوسرے شیطان، انسانوں میں سےہوتے ہیں جو ناصح، مشفق کے روپ میں انسانوں کو گمراہی کی ترغیب دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ شیطان جن کو گمراہ کرتا ہے یہ ان کی دو قسمیں ہیں، یعنی شیطان انسانوں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور جنات کو بھی۔ صرف انسانون کا ذکر تغلیب کے طور پر ہے، ورنہ جنات بھی شیطان کے وسوسوں سے گمراہ ہونے والوں میں شامل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جنوں پر بھی قرآن میں رجال کا لفظ بولا گیا ہے۔ (سورۃ الجن: 6) اس لئے وہ بھی ناس کا مصداق ہیں ۔
فضائل
نبی ﷺ ہر رات سونے سے پہلے دونوں ہتھیلیاں ملا کر ان میں پھونکتے، سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھتے اور جہاں تک ہو سکتا اپنے جسم پر ہاتھ پھیرتے۔ یہ عمل تین بار کرتے۔
صحیح بخاری 5017 · Source صحیح
نبی ﷺ نے ایک صحابی کو سکھایا کہ صبح و شام تین تین بار سورۃ الاخلاص اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) پڑھا کرو، یہ تمہیں ہر چیز سے کافی ہوں گی۔
سنن ابی داود 5082؛ جامع ترمذی 3575 · Source حسن (البانی)
نبی ﷺ نے حضرت نوفل رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ سورۃ الکافرون پڑھو اور اس کے ختم پر سو جاؤ، کیونکہ یہ شرک سے براءت (بیزاری) ہے۔
سنن ابی داود 5055 · Source صحیح (البانی)
نبی ﷺ فجر کی دو سنتوں میں سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص پڑھتے تھے۔
صحیح مسلم 726 · Source صحیح
سورۃ الاخلاص کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔
صحیح بخاری 5013 · Source صحیح
Hadith references link to the collection so you can check them. Gradings are those of the scholars named; where scholars differ, both gradings are shown.
اکثر پوچھے گئے سوالات
چار قل کون سی سورتیں ہیں؟
سورۃ الکافرون (109)، سورۃ الاخلاص (112)، سورۃ الفلق (113) اور سورۃ الناس (114)۔
انہیں چار قل کیوں کہتے ہیں؟
کیونکہ چاروں سورتیں لفظ "قل" سے شروع ہوتی ہیں، جس کا مطلب ہے "کہہ دیجیے"۔
چار قل کب پڑھے جاتے ہیں؟
سونے سے پہلے: نبی ﷺ سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس پڑھ کر ہاتھوں میں پھونکتے اور جسم پر پھیرتے تھے (صحیح بخاری 5017)، اور سورۃ الکافرون پڑھ کر سونے کی تعلیم دی (سنن ابی داود 5055)۔ صبح و شام: سورۃ الاخلاص، الفلق اور الناس تین تین بار (سنن ابی داود 5082)۔
ماخذ
- Arabic text: Tanzil Quran Text (Uthmani) (Tanzil Project, CC BY 3.0), reproduced without changes.
- Translation: Muhammad Junagarhi, from QuranEnc.com, version 1.1.3, reproduced without changes.
- Recitation: Mishary Rashid Alafasy, via QuranicAudio.com and EveryAyah.com.
- Word by word: recordings and meanings from Quran.com (Quran Foundation), played when you tap a word.
- Madinah and IndoPak fonts (Settings): the text in those scripts and their fonts come from the Quran Foundation (Quran.com); the Madinah font is the King Fahd Glorious Quran Printing Complex's Uthmanic Hafs font.
Found a mistake? Report a mistake and we will check it against the source.