سورة الفلق

Surah Al-Falaq (The Daybreak)

Mishary Rashid Alafasy مصحف

سورۃ الفلق قرآن مجید کی 113ویں سورت ہے اور اس میں 5 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب "صبح" ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور پارہ 30 میں ہے۔

اس صفحے پر آپ سورۃ الفلق کا مکمل عربی متن مولانا محمد جوناگڑھی کے اردو ترجمے کے ساتھ آیت بہ آیت پڑھ سکتے ہیں اور تلاوت سن سکتے ہیں۔

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ﴿١﴾

    آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناه میں آتا ہوں.1

    حواشی
    [1] فَلَقٌ کے راجح معنی صبح کے ہیں۔ صبح کی تخصیص اس لئے کی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ رات کا اندھیرا ختم کرکے دن کی روشنی لا سکتا ہے، وہ اللہ اسی طرح خوف اور دہشت کو دور کرکے پناہ مانگنے والے کو امن بھی دے سکتا ہے۔ یا انسان جس طرح رات کو اس بات کا منتظر ہوتا ہے کہ صبح روشنی ہوجائے گی، اسی طرح خوف زدہ آدمی پناہ کے ذریعے سے صبح کامیابی کے طلوع کا امیدوار ہوتا ہے۔ ( فتح القدیر )۔
  2. مِن شَرِّ مَا خَلَقَ﴿٢﴾

    ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے.1

    حواشی
    [1] یہ عام ہے، اس میں شیطان اور اس کی ذریت، جہنم اور ہر اس چیز سےپناہ ہے جس سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
  3. وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ﴿٣﴾

    اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے.1

    حواشی
    [1] رات کے اندھیرے میں ہی خطرناک درندے اپنی کچھاروں سے اور موذی جانور اپنے بلوں سے اور اسی طرح جرائم پیشہ افراد اپنے مذموم ارادوںکو عملی جامہ پہنانے کے لئے نکلتے ہیں۔ ان الفاظ کے ذریعے سے ان تمام سے پناہ طلب کی گئی ہے۔ غَاسِقٍ، رات، وَقَبَ داخل ہو جائے، چھا جائے۔
  4. وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ﴿٤﴾

    اور گره (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی).1

    حواشی
    [1] نَفَّاثَاتٌ، مونث کا صیغہ ہے، جو النُّفُوسُ (موصوف محذوف) کی صفت ہے مِنْ شَرِّ النُّفُوسِ النَّفَّاثَاتِ یعنی گرہوں میں پھونکنے والے نفسوں کی برائی سے پناہ۔ اس سے مراد جادو کا کالا عمل کرنے والے مرد اور عورت دونوں ہیں۔ یعنی اس میں جادوگروں کی شرارت سے پناہ مانگی گئی ہے۔ جادوگر، پڑھ پڑھ کر پھونک مارتے اور گرہ لگاتے جاتے ہیں۔ عام طور پر جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کرکے اس پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔
  5. وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴿٥﴾

    اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وه حسد کرے.1

    حواشی
    [1] حسد یہ ہے کہ حاسد، محسود سے زوال نعمت کی آرزو کرتا ہے، چنانچہ اس سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے۔ کیوں کہ حسد بھی ایک نہایت بری اخلاقی بیماری ہے، جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

سورۃ الفلق کے نام کا مطلب کیا ہے؟

الفلق کا مطلب "صبح" ہے۔

سورۃ الفلق کس پارے میں ہے؟

سورۃ الفلق پارہ 30 میں ہے۔

ماخذ

  • Arabic text: Tanzil Quran Text (Uthmani) (Tanzil Project, CC BY 3.0), reproduced without changes.
  • Translation: Muhammad Junagarhi, from QuranEnc.com, version 1.1.3, reproduced without changes.
  • Recitation: Mishary Rashid Alafasy, via QuranicAudio.com and EveryAyah.com.
  • Word by word: recordings and meanings from Quran.com (Quran Foundation), played when you tap a word.

Found a mistake? Report a mistake and we will check it against the source.

پڑھنے کی ترتیبات

تھیم
عربی متن کا سائز
100%
ترجمے کا سائز
100%