سورة الإنشقاق

Surah Al-Inshiqaq (The Sundering)

Mishary Rashid Alafasy مصحف

سورۃ الإنشقاق قرآن مجید کی 84ویں سورت ہے اور اس میں 25 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب "پھٹنا" ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور پارہ 30 میں ہے۔

اس صفحے پر آپ سورۃ الإنشقاق کا مکمل عربی متن مولانا محمد جوناگڑھی کے اردو ترجمے کے ساتھ آیت بہ آیت پڑھ سکتے ہیں اور تلاوت سن سکتے ہیں۔

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنشَقَّتْ﴿١﴾

    جب آسمان پھٹ جائے گا.1

    حواشی
    [1] یعنی جب قیامت برپا ہوگی۔
  2. وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ﴿٢﴾

    اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گا1 اور اسی کے ﻻئق وه ہے.2

    حواشی
    [1] یعنی اللہ اس کوپھٹنے کا جو حکم دے گا، اسے سنے گا اور اطاعت کرے گا۔ [2] یعنی اس کے یہی لائق ہے کہ سنے اور اطاعت کرے، اس لئے کہ وہ سب پرغالب ہے اور سب اس کے ماتحت ہیں، اس کے حکم سے سرتابی کرنے کی کس کو مجال ہو سکتی ہے ؟
  3. وَإِذَا ٱلْأَرْضُ مُدَّتْ﴿٣﴾

    اور جب زمین (کھینچ کر) پھیلا دی جائے گی.1

    حواشی
    [1] یعنی اس کے طول وعرض میں مزید وسعت کر دی جائےگی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس پر جو پہاڑ وغیرہ ہیں، سب کو ریزہ ریزہ کر کے زمین کو صاف اور ہموار کرکے بچھا دیا جائے گا۔ اس میں کوئی اونچ نیچ نہیں رہے گی۔
  4. وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ﴿٤﴾

    اور اس میں جو ہے اسے وه اگل دے گی اور خالی ہو جائے گی.1

    حواشی
    [1] یعنی اس میں جو مردے دفن ہیں، سب زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے جو خزانے اس کے بطن میں موجود ہیں، وہ انہیں ظاہر کر دے گی، اور خود بالکل خالی ہو جائے گی۔
  5. وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ﴿٥﴾

    اور اپنے رب کے حکم پر کان لگائے گی1 اور اسی کے ﻻئق وه ہے.

    حواشی
    [1] یعنی القا اور تخلی کا جو حکم اسے دیا جائے گا، وہ اس کے مطابق عمل کرے گی ۔
  6. يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَـٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَـٰقِيهِ﴿٦﴾

    اے انسان! تو اپنے رب سے ملنے تک یہ کوشش اور تمام کام اور محنتیں کرکے اس سے ملاقات کرنے واﻻ ہے.1

    حواشی
    [1] یہاں انسان بطور جنس کے ہے جس میں مومن اور کافر دونوں شامل ہیں۔ کدح،سخت محنت کو کہتے ہیں، وہ محنت خیر کے کاموں کے لئے ہو یا شر کےلئے۔ مطلب یہ ہے کہ جب مذکورہ چیزیں ظہور پذیر ہوں گی یعنی قیامت آجائے گی تو اے انسان تو نے جو بھی، اچھا یا برا عمل کیا ہوگا، وہ تو اپنے سامنے پالے گا اور اسی کے مطابق تجھے اچھی یا بری جزا بھی ملے گی۔ آگے اس کی مزید تفصیل ووضاحت ہے۔
  7. فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ﴿٧﴾

    تو (اس وقت) جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا.

  8. فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴿٨﴾

    اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا.1

    حواشی
    [1] آسان حساب یہ ہے کہ مومن کا اعمال نامہ پیش ہوگا۔ اس کی غلطیاں بھی اس کے سامنے لائی جائیں گی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل وکرم سے انہیں معاف فرما دے گا۔ حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا ”جس کا حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا“۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا، جس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا گیا، اس کا حساب آسان ہوگا۔ مطلب حضرت عائشہ (رضی الله عنها) کا یہ تھا کہ اس آیت کی رو سے حساب تو مومن کا بھی ہوگا لیکن وہ ہلاکت سےدوچار نہیں ہوگا۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے وضاحت فرمائی ”یہ تو پیشی ہے“۔ یعنی مومن کے ساتھ معاملہ حساب کا نہیں ہوگا، ایک سرسری سی پیشی ہوگی مومن رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے، جس کا مناقشہ ہوا یعنی پوچھ گچھ ہوئی وہ مارا گیا۔ ( صحيح البخاري، تفسير سورة انشقاق ) ایک اور روایت میں حضرت عائشہ (رضی الله عنها) فرماتی ہیں۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) اپنی بعض نماز میں یہ دعا پڑھتے تھے۔ ”اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا“ (اے اللہ میرا حساب آسان فرمانا) نماز سے فراغت کے بعد میں نے پوچھا، حسابا یسیرا ”آسان حساب“ کا کیا مطلب ہے ؟ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، اللہ تعالیٰ اس کا اعمال نامہ دیکھے گا اور پھر اسے معاف فرما دے گا۔۔۔ ( مسند احمد،6 / 48 ) ۔
  9. وَيَنقَلِبُ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ مَسْرُورًا﴿٩﴾

    اور وه اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی لوٹ آئے گا.1

    حواشی
    [1] یعنی جو اس کے گھر والوں میں سے جنتی ہوں گے۔ یا اس سے مراد وہ حورعین اور ولدان ہیں جو جنتیوں کو ملیں گے۔
  10. وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَـٰبَهُۥ وَرَآءَ ظَهْرِهِۦ﴿١٠﴾

    ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا.

  11. فَسَوْفَ يَدْعُوا۟ ثُبُورًا﴿١١﴾

    تو وه موت کو بلانے لگے گا.1

    حواشی
    [1] ثُبُورًا ہلاکت، خسارہ۔ یعنی وہ چیخے گا، پکارے گا، واویلا کرے گا کہ میں تو مارا گیا، ہلاک ہوگیا۔
  12. وَيَصْلَىٰ سَعِيرًا﴿١٢﴾

    اور بھڑکتی ہوئی جہنم میں داخل ہوگا.

  13. إِنَّهُۥ كَانَ فِىٓ أَهْلِهِۦ مَسْرُورًا﴿١٣﴾

    یہ شخص اپنے متعلقین میں (دنیا میں) خوش تھا.1

    حواشی
    [1] یعنی دنیا میں اپنی خواہشات میں مگن اور اپنے گھر والوں کےدرمیان بڑا خوش تھا۔
  14. إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ﴿١٤﴾

    اس کا خیال تھا کہ اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہ جائے گا.1

    حواشی
    [1] یہ اس کے خوش ہونے کی علت ہے۔ یعنی آخرت پر اس کا عقیدہ ہی نہیں تھا ۔ حور کےمعنی ہیں، لوٹنا۔ جس طرح نبی (صلى الله عليه وسلم) کی دعا ہے اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْحَورِ بَعْدَ الْكَورِ(صحيح مسلم، الحج، باب ما يقول إذا ركب إلى سفر الحج وغيره، ترمذي، ابن ماجه ) مسلم میں بعد الكون ہے۔ مطلب ہے، اس بات سے میں پناہ مانگتا ہوں کہ ایمان کے بعد کفر، اطاعت کے بعد معصیت یاخیر کے بعد شر کی طرف لوٹوں۔
  15. بَلَىٰٓ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرًا﴿١٥﴾

    کیوں نہیں1 ، حاﻻنکہ اس کا رب اسے بخوبی دیکھ رہا تھا.2

    حواشی
    [1] ایک ترجمہ اس کا یہ بھی ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ نہ لوٹے اور دوبارہ زندہ نہ ہو، یا بَلَى، کیوں نہیں، یہ ضرور اپنے رب کی طرف لوٹے گا۔ [2] یعنی اس سے اس کا کوئی عمل مخفی نہیں تھا۔
  16. فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلشَّفَقِ﴿١٦﴾

    مجھے شفق کی قسم1 ! اور رات کی!

    حواشی
    [1] شَفَقٌ، اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج غروب ہونے کے بعد آسمان پر ظاہر ہوتی ہے اور عشا کا وقت شروع ہونے تک رہتی ہے۔
  17. وَٱلَّيْلِ وَمَا وَسَقَ﴿١٧﴾

    اور اس کی جمع کرده1 چیزوں کی قسم.

    حواشی
    [1] اندھیرا ہوتے ہی ہر چیز اپنےماویٰ اور مسکن کی طرف جمع اور سمٹ آتی ہے یعنی رات کا اندھیرا جن چیزوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔
  18. وَٱلْقَمَرِ إِذَا ٱتَّسَقَ﴿١٨﴾

    اور چاند کی جب کہ وه کامل ہو جاتا ہے.1

    حواشی
    [1] إِذَا اتَّسَقَ کے معنی ہیں، جب وہ مکمل ہو جائے جیسے وہ تیرھویں کی رات سے سولھویں تاریخ کی رات تک رہتا ہے۔
  19. لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ﴿١٩﴾

    یقیناً تم ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچو گے.1

    حواشی
    [1] طَبَقٌ کے اصل معنی شدت کے ہیں۔ یہاں مراد وہ شدائد ہیں جو قیامت والے دن واقع ہوں گے۔ یعنی اس روز ایک سے بڑھ کر ایک حالت طاری ہوگی۔ (فتح الباري ، تفسير سورة انشقاق) یہ جواب قسم ہے۔
  20. فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ﴿٢٠﴾

    انہیں کیا ہو گیا کہ ایمان نہیں ﻻتے.

  21. وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ ٱلْقُرْءَانُ لَا يَسْجُدُونَ ۩﴿٢١﴾

    اور جب ان کے پاس قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجده نہیں کرتے.1

    حواشی
    [1] احادیث سے یہاں نبی (صلى الله عليه وسلم) اور صحابہ کرام کا سجدہ کرنا ثابت ہے۔
  22. بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُكَذِّبُونَ﴿٢٢﴾

    بلکہ جنہوں نے کفر کیا وه جھٹلا رہے ہیں.1

    حواشی
    [1] یعنی ایمان لانے کےبجائے جھٹلاتے ہیں۔
  23. وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ﴿٢٣﴾

    اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں رکھتے ہیں.1

    حواشی
    [1] یعنی تکذیب، یاجو افعال وہ چھپ کر کرتے ہیں۔
  24. فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ﴿٢٤﴾

    انہیں المناک عذابوں کی خوشخبری سنا دو.

  25. إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍۭ﴿٢٥﴾

    ہاں ایمان والوں اور نیک اعمال والوں کو بے شمار اور نہ ختم ہونے واﻻ اجر ہے.

اکثر پوچھے گئے سوالات

سورۃ الإنشقاق کے نام کا مطلب کیا ہے؟

الإنشقاق کا مطلب "پھٹنا" ہے۔

سورۃ الإنشقاق کس پارے میں ہے؟

سورۃ الإنشقاق پارہ 30 میں ہے۔

ماخذ

  • Arabic text: Tanzil Quran Text (Uthmani) (Tanzil Project, CC BY 3.0), reproduced without changes.
  • Translation: Muhammad Junagarhi, from QuranEnc.com, version 1.1.3, reproduced without changes.
  • Recitation: Mishary Rashid Alafasy, via QuranicAudio.com and EveryAyah.com.
  • Word by word: recordings and meanings from Quran.com (Quran Foundation), played when you tap a word.

Found a mistake? Report a mistake and we will check it against the source.

پڑھنے کی ترتیبات

تھیم
عربی متن کا سائز
100%
ترجمے کا سائز
100%