سورة التكاثر

Surah At-Takathur (The Rivalry in world increase)

Mishary Rashid Alafasy مصحف

سورۃ التكاثر قرآن مجید کی 102ویں سورت ہے اور اس میں 8 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب "کثرت" ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور پارہ 30 میں ہے۔

اس صفحے پر آپ سورۃ التكاثر کا مکمل عربی متن مولانا محمد جوناگڑھی کے اردو ترجمے کے ساتھ آیت بہ آیت پڑھ سکتے ہیں اور تلاوت سن سکتے ہیں۔

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

  1. أَلْهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ﴿١﴾

    زیادتی کی چاہت نے تمہیں غافل کردیا.1

    حواشی
    [1] أَلْهَى يُلْهِي، کے معنی ہیں، غافل کر دینا۔ تَكَاثُرٌ، زیادتی کی خواہش۔ یہ عام ہے۔ مال، اولاد، اعوان وانصار اور خاندان وقبیلہ وغیرہ، سب کو شامل ہے۔ ہر وہ چیز، جس کی کثرت انسان کو محبوب ہو اور کثرت کے حصول کی کوشش وخواہش اسے اللہ کے احکام اور آخرت سے غافل کر دے۔ یہاں اللہ تعالیٰ انسان کی اسی کمزوری کو بیان کر رہا ہے، جس میں انسانوں کی اکثریت ہر دور میں مبتلا رہی ہے۔
  2. حَتَّىٰ زُرْتُمُ ٱلْمَقَابِرَ﴿٢﴾

    یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے.1

    حواشی
    [1] اس کا مطلب ہے کہ حصول کثرت کے لئے محنت کرتے کرتے، تمہیں موت آگئی، اور تم قبروں میں جا پہنچے۔
  3. كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ﴿٣﴾

    ہرگز نہیں1 تم عنقریب معلوم کر لو گے.

    حواشی
    [1] یعنی تم جس تکاثر وتفاخر میں ہو، یہ صحیح نہیں۔
  4. ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ﴿٤﴾

    ہرگز نہیں پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا.1

    حواشی
    [1] اس کا انجام عنقریب تم جان لو گے، یہ بطور تاکید دو مرتبہ فرمایا۔
  5. كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ ٱلْيَقِينِ﴿٥﴾

    ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو.1

    حواشی
    [1] اس کا جواب محذوف ہے۔ مطلب ہے کہ اگر تم اس سے غفلت کا انجام اس طرح یقینی طور پر جان لو، جس طرح دنیا کی کسی دیکھی بھالی چیز کا تمہیں یقین ہوتا ہے تو تم یقیناً اس تکاثر وتفاخر میں مبتلا نہ ہو۔
  6. لَتَرَوُنَّ ٱلْجَحِيمَ﴿٦﴾

    تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے.1

    حواشی
    [1] یہ قسم محذوف کا جواب ہے یعنی اللہ کی قسم تم جہنم ضرور دیکھو گے یعنی اس کی سزا بھگتو گے۔
  7. ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ ٱلْيَقِينِ﴿٧﴾

    اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے.1

    حواشی
    [1] پہلا دیکھنا دور سے ہوگا، یہ دیکھنا قریب سے ہوگا، اسی لئے اسے عَيْنُ الْيَقِينِ (جس کا یقین مشاہدۂ عینی سے حاصل ہو) کہا گیا۔
  8. ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ﴿٨﴾

    پھر اس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہوگا.1

    حواشی
    [1] یہ سوال ان نعمتوں کے بارے میں ہوگا، جو اللہ نے دنیا میں عطا کی ہوں گی۔ جیسے آنکھ، کان، دل، دماغ، امن وصحت، مال ودولت اور اولاد وغیرہ۔ بعض کہتے ہیں، یہ سوال صرف کافروں سے ہوگا۔ بعض کہتے ہیں، ہر ایک سے ہی ہوگا کیوں کہ محض سوال مستلزم عذاب نہیں۔ جنہوں نے ان نعمتوں کا استعمال اللہ کی ہدایت کے مطابق کیا ہوگا، وہ سوال کے باوجود عذاب سے محفوظ رہیں گے ، اور جنہوں نے کفران نعمت کا ارتکاب کیا ہوگا، وہ دھر لیے جائیں گے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

سورۃ التكاثر کے نام کا مطلب کیا ہے؟

التكاثر کا مطلب "کثرت" ہے۔

سورۃ التكاثر کس پارے میں ہے؟

سورۃ التكاثر پارہ 30 میں ہے۔

ماخذ

  • Arabic text: Tanzil Quran Text (Uthmani) (Tanzil Project, CC BY 3.0), reproduced without changes.
  • Translation: Muhammad Junagarhi, from QuranEnc.com, version 1.1.3, reproduced without changes.
  • Recitation: Mishary Rashid Alafasy, via QuranicAudio.com and EveryAyah.com.
  • Word by word: recordings and meanings from Quran.com (Quran Foundation), played when you tap a word.

Found a mistake? Report a mistake and we will check it against the source.

پڑھنے کی ترتیبات

تھیم
عربی متن کا سائز
100%
ترجمے کا سائز
100%