سورة الهمزة
Surah Al-Humazah (The Traducer)
- 9 آیات
- مکی
- پارہ 30
- صفحہ 601
سورۃ الهمزة قرآن مجید کی 104ویں سورت ہے اور اس میں 9 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب "عیب لگانے والا" ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور پارہ 30 میں ہے۔
اس صفحے پر آپ سورۃ الهمزة کا مکمل عربی متن مولانا محمد جوناگڑھی کے اردو ترجمے کے ساتھ آیت بہ آیت پڑھ سکتے ہیں اور تلاوت سن سکتے ہیں۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
-
وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴿١﴾
بڑی خرابی ہے ہر ایسے شخص کی جو عیب ٹٹولنے واﻻ غیبت کرنے واﻻ ہو.1
حواشی
[1] هُمَزَةٌ اور لُمَزَةٌ بعض کے نزدیک ہم معنی ہیں۔ بعض اس میں کچھ فرق کرتے ہیں۔ هُمَزَةٌ وہ شخص ہے جو رودر رو برائی کرے اور لُمَزَةٌ، وہ جو پیٹھ پیچھے غیبت کرے۔ بعض اس کے برعکس معنی کرتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں هَمْزٌ، آنکھوں اور ہاتھوں کے اشارے سے برائی کرنا ہے اور لَمْزٌ زبان سے۔ -
ٱلَّذِى جَمَعَ مَالًا وَعَدَّدَهُۥ﴿٢﴾
جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے.1
حواشی
[1] اس سے مراد یہی ہے کہ جمع کرنا اور گن گن کر رکھنا یعنی سینت سینت کر رکھنا اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنا۔ ورنہ مطلق مال جمع کرکے رکھنا مذموم نہیں ہے۔ یہ مذموم اسی وقت ہے جب زکوٰۃ وصدقات اور انفاق فی سبیل اللہ کا اہتمام نہ ہو۔ -
يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخْلَدَهُۥ﴿٣﴾
وه سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس سدا رہے گا.1
حواشی
[1] أَخْلَدَهُ کا زیادہ صحیح ترجمہ یہ ہے کہ (اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا) یعنی یہ مال،جسےوہ جمع کرکے رکھتا ہے، اس کی عمر میں اضافہ کر دے گا اور اسے مرنے نہیں دے گا۔ -
كَلَّا ۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِى ٱلْحُطَمَةِ﴿٤﴾
ہرگز نہیں1 یہ تو ضرور توڑ پھوڑ دینے والی آگ میں پھینک دیا جائے گا.2
حواشی
[1] یعنی معاملہ ایسا نہیں ہےجیسا اس کا زعم اور گمان ہے۔ [2] ایسا بخیل شخص حطمہ میں پھینک دیا جائے گا۔ یہ بھی جہنم کا ایک نام ہے، توڑ پھوڑ دینے والی۔ -
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْحُطَمَةُ﴿٥﴾
اور تجھے کیا معلوم کہ ایسی آگ کیا ہوگی؟1
حواشی
[1] یہ استفہام اس کی ہولناکی کے بیان کے لئے ہے، یعنی وہ اتنی ہولناک آگ ہوگی کہ تمہاری عقلیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور تمہارا فہم وشعور اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ -
نَارُ ٱللَّهِ ٱلْمُوقَدَةُ﴿٦﴾
وه اللہ تعالیٰ کی سلگائی ہوئی آگ ہوگی.
-
ٱلَّتِى تَطَّلِعُ عَلَى ٱلْأَفْـِٔدَةِ﴿٧﴾
جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی.1
حواشی
[1] یعنی اس کی حرارت دلوں تک پہنچ جائے گی۔ ویسے تو دنیا کی آگ کے اندر بھی یہ خاصیت ہے کہ وہ ہر چیز کو جلا ڈالتی ہے لیکن دنیا میں یہ آگ دل تک پہنچ نہیں پاتی کہ انسان کی موت اس سے قبل ہی واقع ہو جاتی ہے۔ جہنم میں ایسا نہیں ہوگا، وہ آگ دلوں تک بھی پہنچ جائے گی، لیکن موت نہیں آئے گی،بلکہ آرزو کے باوجود بھی موت نہیں آئے گی۔ -
إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌ﴿٨﴾
وہ ان پر ہر طرف سے بند کی ہوئی ہوگی.1
حواشی
[1] مُؤْصَدَةٌ بند، یعنی جہنم کے دروازے اور راستے بند کر دیئے جائیں گے، تاکہ کوئی باہر نہ نکل سکے، اور انہیں لوہے کی میخوں کے ساتھ باندھ دیا جائے گا، جو لمبےلمبے ستونوں کی طرح ہوں گی، بعض کے نزدیک عمد سے مراد بیڑیاں یا طوق ہیں اور بعض کےنزدیک ستون ہیں جن میں انہیں عذاب دیا جائے گا۔ (فتح القدیر)۔ -
فِى عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍۭ﴿٩﴾
بڑے بڑے ستونوں میں.
اکثر پوچھے گئے سوالات
سورۃ الهمزة کے نام کا مطلب کیا ہے؟
الهمزة کا مطلب "عیب لگانے والا" ہے۔
سورۃ الهمزة کس پارے میں ہے؟
سورۃ الهمزة پارہ 30 میں ہے۔
ماخذ
- Arabic text: Tanzil Quran Text (Uthmani) (Tanzil Project, CC BY 3.0), reproduced without changes.
- Translation: Muhammad Junagarhi, from QuranEnc.com, version 1.1.3, reproduced without changes.
- Recitation: Mishary Rashid Alafasy, via QuranicAudio.com and EveryAyah.com.
- Word by word: recordings and meanings from Quran.com (Quran Foundation), played when you tap a word.
Found a mistake? Report a mistake and we will check it against the source.