سورة الماعون
Surah Al-Ma'un (The Small kindnesses)
- 7 آیات
- مکی
- پارہ 30
- صفحہ 602
سورۃ الماعون قرآن مجید کی 107ویں سورت ہے اور اس میں 7 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب "تھوڑی سی چیز" ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور پارہ 30 میں ہے۔
اس صفحے پر آپ سورۃ الماعون کا مکمل عربی متن مولانا محمد جوناگڑھی کے اردو ترجمے کے ساتھ آیت بہ آیت پڑھ سکتے ہیں اور تلاوت سن سکتے ہیں۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ
-
أَرَءَيْتَ ٱلَّذِى يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ﴿١﴾
کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے؟1
حواشی
[1] رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) کو خطاب ہے اور استفہام سے مقصد اظہار تعجب ہے۔ رویت معرفت کے مفہوم میں ہے اور دین سے مراد آخرت کا حساب اور جزا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ کلام میں حذف ہے۔ اصل عبارت ہے (کیا تو نےاس شخص کو پہچانا جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے؟ آیا وہ اپنی اس بات میں صحیح ہے یا غلط؟ -
فَذَٰلِكَ ٱلَّذِى يَدُعُّ ٱلْيَتِيمَ﴿٢﴾
یہی وه ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے.1
حواشی
[1] اس لئے کہ ایک توبخیل ہے۔ دوسرا، قیامت کا منکر ہے، بھلا ایسا شخص یتیم کے ساتھ کیوں کر حسن سلوک کر سکتا ہے؟ یتیم کے ساتھ تو وہی شخص اچھا برتاؤ کرے گا جس کے دل میں مال کے بجائے انسانی قدروں اور اخلاقی ضابطوں کی اہمیت ومحبت ہوگی۔ دوسرے اسے اس امر کا یقین ہو کہ اس کے بدلے میں مجھے قیامت والے دن اچھی جزا ملے گی۔ -
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ﴿٣﴾
اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا.1
حواشی
[1] یہ کام بھی وہی کرے گا جس میں مذکورہ خوبیاں ہوں گی ورنہ یہ یتیم کی طرح مسکین کو بھی دھکا ہی دے گا۔ -
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ﴿٤﴾
ان نمازیوں کے لئے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے.
-
ٱلَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴿٥﴾
جو اپنی نماز سے غافل ہیں.1
حواشی
[1] اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو نماز یا تو پڑھتے ہی نہیں۔ یا پہلے پڑھتے رہے ہیں، پھر سست ہوگئے یا نماز کو اس کے اپنے مسنون وقت میں نہیں پڑھتے، جب جی چاہتاہے پڑھ لیتے ہیں یا تاخیر سے پڑھنے کو معمول بنا لیتے ہیں یا خشوع خضوع کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ یہ سارے ہی مفہوم اس میں آجاتے ہیں، اس لئے نماز کی مذکورہ ساری ہی کوتاہیوں سے بچنا چاہئے۔ یہاں اس مقام پر ذکر کرنے سے یہ بھی واضح ہے کہ نماز میں ان کی کوتاہیوں کے مرتکب وہی لوگ ہوتے ہیں جو آخرت کی جزا اور حساب کتاب پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی لئے منافقین کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے۔ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلاةِ قَامُوا كُسَالَى يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلا قَلِيلا (النساء: 142) ۔ -
ٱلَّذِينَ هُمْ يُرَآءُونَ﴿٦﴾
جو ریاکاری کرتے ہیں.1
حواشی
[1] یعنی ایسے لوگوں کو شیوہ یہ ہوتا ہے، کہ لوگوں کے ساتھ ہوئے تو نماز پڑھ لی، بصورت دیگر نماز پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے، یعنی صرف نمود ونمائش اور ریاکاری کے لئے نماز پڑھتے ہیں ۔ -
وَيَمْنَعُونَ ٱلْمَاعُونَ﴿٧﴾
اور برتنے کی چیز روکتے ہیں.1
حواشی
[1] مَعْنٌ : شَيْءٌ قَلِيلٌ کہتے ہیں۔ بعض اس سے مراد زکوٰۃ لیتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی اصل مال کے مقابلے میں بالکل تھوڑی سی ہی ہوتی ہے، ( ڈھائی فی صد ) اور بعض اس سے گھروں میں برتنے والی چیزیں مراد لیتے ہیں جو پڑوسی ایک دوسرے سےعاریتاً مانگ لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ گھریلو استعمال کی چیزیں عاریتاً دے دینا اور اس میں کبیدگی محسوس نہ کرنا اچھی صفت ہے اور اس کے برعکس بخل اور کنجوسی برتنا، یہ منکرین قیامت ہی کا شیوہ ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
سورۃ الماعون کے نام کا مطلب کیا ہے؟
الماعون کا مطلب "تھوڑی سی چیز" ہے۔
سورۃ الماعون کس پارے میں ہے؟
سورۃ الماعون پارہ 30 میں ہے۔
ماخذ
- Arabic text: Tanzil Quran Text (Uthmani) (Tanzil Project, CC BY 3.0), reproduced without changes.
- Translation: Muhammad Junagarhi, from QuranEnc.com, version 1.1.3, reproduced without changes.
- Recitation: Mishary Rashid Alafasy, via QuranicAudio.com and EveryAyah.com.
- Word by word: recordings and meanings from Quran.com (Quran Foundation), played when you tap a word.
Found a mistake? Report a mistake and we will check it against the source.